لب گور

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - مرنے کے قریب۔ "عصمت نے . ایک بظاہر لب گور کردار کو زندگی و توانائی کا مرقع بنایا ہے۔"      ( ١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'لب' کے آخر پر کسرۂ اضافت لگا کر ہندی اسم 'گور' لگا کر مرکب اضافی 'لب گور' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٢ء کو "دیوان رند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مرنے کے قریب۔ "عصمت نے . ایک بظاہر لب گور کردار کو زندگی و توانائی کا مرقع بنایا ہے۔"      ( ١٩٩٢ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٦١ )